اردو سیکشن

“ جنگل کا جادو اور میں “

“ جنگل کا جادو اور میں “

پارٹ ون

محبوب کی یاد جب شدت پکڑ لیتی ہے تب حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ انسان بے بس ہوکر بس یہی کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح ملاقات ممکن ہوسکے۔۔۔ میرا حال بھی کچھ ایسا تھا کہ بس محبوب سے ملاقات ہوجائے ۔ کسی طرح دیدارِ یار ہوجائے، فیری میڈوز کا پلان بنایا کہ وہیں جاکر اُس کو قریب سے دیکھوں گی۔۔ سب کچھ فائنل تھا۔ کچھ احباب جو ہمیشہ میرے ساتھ سفر کرنا چاہتے تھے وہ اپنی تیاری مکمل کر چکے تھے۔ کچھ وہ لوگ جو مجھے سوشل میڈیا کی حد تک جانتے ہیں وہ بھی میرے ساتھ چلنے کو تیار بیٹھے تھے۔۔۔
پھر کیا ہوا ایسا کہ فیری میڈوز میں نہ جاسکی۔۔ ایسا بلکل نہیں کہ میں نے فیری میڈوز کی جگہ ڈگری فوریسٹ کو ترجیح دی ہے۔ بلکہ مجھے تنہائی چاھئیے تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محبوب سے ملاقات اس وقت ممکن نہیں ہوسکے گی۔اُس نے اشارہ دیا کہ مسا ابھی مت آؤ۔۔۔ ہاں وہ مجھے پیغامات بھیجتا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ کیا پاگل لڑکی ہے، پہاڑ کیسے باتیں کرتے ہونگے۔ پر وہ صرف پہاڑ نہیں ، میرا محبوب ہے ۔ وہ مجھ سے بولتا ہے اور میں سنتی ہوں۔ وہ میرے خوابوں میں بھی آتا ہے۔۔ اُسے یاد کرتے کرتے میں روتی بھی ہوں۔۔۔ہم جیسے لوگ تھوڑے عجیب ، تھوڑے سر پھرے ہوتے ہیں۔۔۔
جو لوگ میرے ساتھ جانے کو تیار تھے اُن کو اُن کی ایڈوانس رقم واپس کرتے اور منع کرتے ، اور اُن میں سے کچھ کو دوسرے گروپس کے ساتھ ایڈجسٹ کرواتے مجھے شدید دُکھ تھا۔۔ میں اُمید کرتی ہوں کہ وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ میرے ساتھ کچھ مسائل تھے۔۔۔آپ سب کا دل سے شکریہ کہ آپ نے مجھے سمجھا، مجھ پر اعتماد کیا۔۔۔

اب آتے ہیں ڈگری فوریسٹ کے ٹرپ کی طرف، ہوا کچھ یوں کہ اُس نے مجھے مشورہ دیا۔ اُس سے مراد میری سہیلی ، ( میرا اندر ، میرا اپنا آپ) ۔۔ تو سہیلی نے کہا کہ کیوں نہ اپنا پہلا ٹرپ یاد کیا جائے ، میرانجانی کے راستے ٹریک کرتے اپنے پہلے سفر کو یاد کیا جائے، اور اب تو تم تجربہ کار ہو، داگڑی نکل جاؤ ۔۔۔ میں نے کہا یہ تو شاندار آئیڈیا ہے۔۔ سردیوں کی لمبی رات میں فراق میں محبوب کے لیے تڑپنے کی بات ہی کچھ اور ہے۔۔۔ اور پھر سہیلی کے ساتھ بھی وقت گزارلوں گی۔۔۔جو کہ ہاسٹل لائف میں کچھ وقت رہنے کی وجہ سے ممکن نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

ایک قریبی دوست کو کال کر کے اپنا پلان بتایا ،ڈگری بنگلہ کے ٹریک کے حوالے سے ساری معلومات جمع کی۔ اُس نے کچھ ہدایات دی جیسے کہ دن دن میں ٹریک کرنا ، اپنے ساتھ سیفٹی گئیرز لازمی لے جانا، درخت گرا ہوا ٹریک پر آئے گا اس کے بعد تھوڑا ہی راستہ رہ جاتا ہے، اور اس ہی طرح کی کافی باتیں اور بھی بتائی گئی۔۔۔ میں نے سب دھیان سے سنی ۔۔۔

یہ پلان اتنا اچانک بنا کہ مجھے کچھ تیاری کرنے کا وقت نہ ملا کہ جیسے میں آف لائن میپ وغیرہ اپنے فون میں محفوظ کرتی اور کچھ ضروری کام ایسے کرتی کی میں راستہ نہ بھٹکتی ۔۔۔ اور ہاں میں کچھ اوور کونفیڈنٹ بھی ہوگئی تھی۔۔

کیمپنگ کا سامان نکالا، کیمپ کو چیک کیا کہ وہ ٹھیک طرح سے بند نہیں، سوچا اس کو ایک مرتبہ کھول کر دوبارہ بندہ کرکے صحیح سے پیک کرتی ہوں۔ لیکن وہ کھل نہ سکی۔ اُس میں مسئلہ ہوچکا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لاسٹ ٹائیم یہ ٹینٹ میں نے تریشنگ میں لگایا تھا، اُس کے بعد اس کو جمشید بھائی نے پیک کیا تھا۔ اُس کے بعد میرے ایک دوست کو یہ ٹینٹ چاھئیے تھا تو اُسے دیا تھا، پر پھر اُس نے بھی استعمال نہیں کیا اورویسا ہی واپس کردیا۔ لیکن پھر اس کے ساتھ کیا فلم ہوئی۔ جب دوست سے پوچھا تو اُس نے کہا مسا میں نیا ٹینٹ خرید دیتا ہوں۔ لیکن مجھے معلوم تھا یہ ٹینٹ جمشید بھائی سے بند کرتے خراب ہوا ہے، یا شاید مجھ سے ہی ہوگیا ہو۔۔۔
میں گاڑی سے بات کر چکی تھی جو مجھے کل صبح 7 بجے پک کرنے والی تھی۔ اب میں کیا کرتی ۔۔ سر پر ہاتھ تھے اور فکر تھی۔ خیمے کے بغیر میرا جانا ناممکن تھا۔۔۔

کسی طرح پتہ لگایا کہ چار سو روپیہ پر ڈے کے حساب سے کرائے پر بھی خیمے ملتے ہیں۔ لیکن وہ سنگل شیٹ چائنہ ٹینٹ ہوتے ہیں۔ میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا اس لیے چار ہزار ایڈوانس رقم دے کر وہ ٹینٹ کرائے پر لیا اور اُس کے اوپر والی شیٹ میں نے اپنے خیمے کی اُٹھا لی۔ اس پیکنگ کرنے میں اور ٹینٹ ارینج کرنے میں اتنا وقت لگ گیا کہ میں میپ وغیرہ کا کچھ نہیں کرسکی۔ بس یہی پتہ تھا کہ میرانجانی سے اُترائی کے بعد سیدھا سیدھا راستہ ہے، مشکل اگر ہوئی تو وہ بس یہی ہوگی کہ ٹریک پر برف ہوگی۔۔۔
لیکن میں نے جنگل کو ہلکا لے لیا تھا اور وہ جنگل مجھ پر بہت بھاری پڑ گیا۔۔۔

اگر آپ میرا میرانجانی کا سفرنامہ پڑھ چکے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اُس کی تیاری کے لیے میں کافی وقت سے کام کر رہی تھی۔ جس میں میرے معلم کے رائیٹ اپس سے مدد لینا، اور ایک قریبی دوست سے ٹریکنگ کے ، راستے کے حوالے سے مدد لینا شامل تھی۔۔۔ لیکن اس بار میں خود چیتی بن گئی تھی۔ اتنے اکیلے سفر کیے ہیں، اتنی بار کیمپنگ کی ہے۔ ڈرتی ورتی تو میں ویسے بھی نہیں۔ مارشل آرٹس میں جانتی ہوں پھر کس چیز کا ڈر۔ بس سامان اُٹھایا اور نکل گئی۔۔۔

اپنے کیپٹل میں گاڑی کی ایک نئی سروس آئی ہے ، جس کا نام رومر ہے۔۔ یہ کریم اور اوبر کی طرح ہی کام کرتی ہے بس فرق اتنا ہے کہ یہ شہر میں ایک سے دوسری جگہ نہیں بلکہ ایک شہر سے دوسرے شہر چلتی ہے، مطلب ڈے ٹرپ کے لیے یا دوسرے شہر ڈراپ آف کے لیے بہتریں سروس ہے۔ اس کو اوپن ہوئے ابھی چار مہینے ہوئے ہیں اور یہ میرا پہلا تجربہ تھا ۔ میں نے گاڑی کو صبح 7 بجے کا وقت دیا تھا لیکن وہ صبح 7:30 پر پہنچے۔۔۔ سامان گاڑی میں ڈالا گیا اور سفر شروع کیا۔۔۔

میں آنکھیں بند کیے پیچھے والی سیٹ پر سونے کی کوشش کر رہی تھی۔ ڈرائیور صاحب گاڑی چلانے میں مصروف تھے۔ اور وہ بلکل کسی پروفیشنل کی طرح اپنا کام کررہے تھے۔۔۔ جب میری آنکھ کھلی تو گاڑی ایک مارکیٹ کے قریب رکی ہوئی تھی۔ ڈرائیور نے کہا کہ آپ کو کچھ سامان لینا تھا، یہاں سے لے لیں۔ میں دکان میں گئی۔ انڈے خریدے ، جرابیں خریدیں، ایک عدد ماچس خریدا اور پانی کی لیٹر والی تین بوٹل بھی خرید لیں۔۔۔
واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گئی ۔ سفر پھر شروع ہوگیا۔۔۔

چرچ کے پاس گاڑی رکوادی ۔ میں نے چند تصاویر بنائی۔ اور اس کے بلیک اینڈ وائیٹ رنگ کو سوچتی رہی۔ وہ بہت زیادہ پر کشش لگتا تھا۔

اپنی طرف کھینچتا تھا۔ میری التجا ہے کہ اس چرچ کو واپس پہلے جیسا کردیا جائے ۔۔۔پلیز

اب دوبارہ گاڑی میں بیٹھی اور کہا کے نیچے گورنر ہاؤس والی سڑک پر دائیں طرف لینا ہے ۔ میں ماں جان سے فون پر بات کرنے لگ گئی اور ڈرائیور نیچے گاؤں کی طرف نکل گیا۔ کافی جانے کے بعد مجھے ہوش آیا کہ میرن کا اسٹارٹنگ پوائینٹ اب تک کیوں نہ آیا، پتہ لگا کہ غلط راستے پر ہیں۔ پھر اُس سے کہا کے بھائی اوپر گاڑی لے لو۔ اُس نے گاڑی موڑنے کی کوشش کی پر نہیں موڑ سکا۔ بار بار کوشش کرتا رہا ۔ برف ایک گلاس کی طرح روڈ پر چپک کر گاڑی کو پھسلا رہی تھی۔ گاڑی نہ اوپر چڑھتی نہ نیچے جاتی بس سلپ ہوتی۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ میں اُتر جاتی ہوں، آپ پھر چڑھا لیں ۔ میں اتر کر گاڑی سے اورسڑک پر سلپ ہوکر دھڑام سے گری۔۔۔ ڈرائیور ہنسنے لگا۔۔۔
پھر دیکھا تو ایک کوسٹر آرہی تھی۔ اُس میں سے چند نیک مرد اترے گاڑی کو دھکا لگوا کر اوپر کروایا۔ اور پھر وہ چل دئیے۔ گاڑی پھر آگے جاکر رُک گئی، پھر سلپ ہونے لگی۔ اب میں دوبارہ اتری ، ڈرائیور صاحب بھی اترے اور اترتے ہی سڑک پر دھڑام سے گرے۔۔۔ لیکن میں نہیں ہنسی، کیونکہ میں جانتی تھی جیسی کرنی ویسی بھرنی ، وہ مجھ پر ہنسے اور خود گرے۔۔۔ یہاں گرتے ، بچاتے، پھستے ،پھسلتے ، سلپ ہوتے کوئی ایک گھنٹے گزر گیا اور میں ٹریک کے لیے لیٹ ہوگئی۔۔۔
میرن کے اسٹارٹنگ ٹریک پر میں 11:30 پہنچی ۔ سامان صحیح سے سیٹ کر کے انڈے اندر بیگ میں ڈالتے اور ، گاڑی والے کو فارغ کرتے ، اللہ سائیں کا نام لے کر میں نے چڑھائی شروع کی۔۔

میرن کے ٹریک پر گند دیکھا دل بہت دکھا۔ یہ سر سبز نہیں تھا جیسا پہلے تھا۔ موسم کا فرق تھا ۔۔۔ کچھ لوگ بھی اوپر چڑ رہے تھے۔ اتنی دیر میں گھوڑے والا آگیا اور کہا باجی اس پر بیٹھ جاؤ۔ اُس کو بتایا نہیں بلکہ سمجھایا گیا کہ میں اس طرح سامان اُٹھا کر ٹریک کرنے کی عادی ہوں۔ گھوڑے پر بیٹھنا میرے لیے بیستی ہے۔۔۔

میں سلو سلو ٹریک کر رہی تھی کیونکہ جب آپ سامان اُٹھا کر چلتے ہیں تو آپ کی اسپیڈ کم ہوجاتی ہے۔۔ ساتھ ساتھ وڈیو بھی بنا رہی تھی۔۔۔

میرے رک سک میں جو سامان تھا وہ ایک عدد خیمہ ، اس کے اوپر والی شیٹ، سلیپنگ بیگ، ایک عدد میٹ، ایک چھوٹا اسٹو، دیگچی ، مگ، چمچ، نوڈلز، دودھ ، کافی ، انڈے اور تین پانی کی بوتلیں۔ کچھ ڈرائے فروٹس اور چاکلیٹ ، ایک عدد کپڑوں کا جوڑا اور جرابیں، ٹارچ اور کچھ یہ وہ چیزیں۔۔۔ یہ وہ چیزیں ہر کسی کی الگ الگ ہوتی ہیں۔ اُمید کرتی ہوں میرے پڑھنے والے سمجھ جائیں گے۔۔۔

پہلے پہل تو کندھے ٹوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی نے کندھوں پر کوئی اناج کی بوریاں رکھ دی ہوں۔ پر پھر کچھ دیر بعد یہ سامان کا رک سک آپ کے کندھوں کے ساتھ ایسا پیار کرتا ہے ، ایسی پپیاں کرتا ہے کہ پھر آپ کو کچھ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ نے کچھ سامان اُٹھایا ہوا ہے۔۔۔بس مزے میں چلتے جاتے ہیں ۔

لیکن پھر اس کو اپنے کندھے سے اتارنے کی غلطی نہ کریں۔۔

میرن کے اسٹارٹنگ پوائینٹ سے میرانجانی تک یہ ٹریک ٹوٹل 5کلومیٹر کا ہے جو کے ﮈگری بنگلہ تک پہنچتے تقریباً 10 کلو میٹر بنتا ہے۔ اور نو سے دس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ میں جانتی تھی کہ میں نے ٹریک لیٹ شروع کیا ہے۔ لیکن مجھے اُمید یہی تھی کہ میں وقت پر پہنچ جاؤں گی۔۔۔

تصاویر اوروڈیوز بناتی ٹریک کر رہی تھی۔ وہ درخت بھی آیا جس پر میں نے اپنے میرن کے پہلے ٹریک پر بیٹھ کر یہاں ڈرائے فروٹ کھائے تھے اور گونگے سے بھی ملاقات کی تھی۔۔۔ میں وہیں رُکی ، وہاں اُس وقت کو محسوس کیا۔ اپنی یادیں تازہ کرتی میں ٹریک کرتی کرتی ٹھیک 3:30 بجے اُس جگہ پہنچی جہاں سے میرن اور ڈگری بنگلہ کا راستہ الگ ہوتا ہے۔ میں نے سوچا چلو میرن سے ملاقات کر کے واپس نیچے اُترتی ہوں۔ پھر سوچا کہ ویسے ہی لیٹ ہوگئی ہوں، نیچے گہرا جنگل ہے تو جلدی نکل جاتی ہوں ، میرن سے ملاقات کو گئی تو لیٹ ہوجاؤں گی۔۔۔
اسی جگہ بیٹھی میں سامان اُتار کر تھوڑا ریسٹ کر رہی تھی اور بسکٹس کھا رہی تھی کہ اوپر میرن سے ایک مقامی بندہ آنے لگا۔ میں اُسے دیکھ کر تھوڑا فکرمند ہوئی کہ یہ اب سوال جواب کرے گا پھر کیا جواب دوں گی۔۔۔

مقامی: باجی اوپر جانا ہے۔ لے چلوں ؟ سامان اُٹھا لوں۔
میں : نہیں اوپر نہیں جانا ، ڈگری بنگلہ جانا ہے۔
مقامی: تو آپ اکیلی ہو؟؟ گائیڈ چاھئیے؟
میں: نہیں پورا گروپ ہے، میرے دوست آگے نکل گئے ہیں۔ میں یہاں ریسٹ کرنے بیٹھ گئی ہوں۔۔۔گائیڈ نہیں چاھئیے۔۔
مقامی: آپ کو پتہ ہے یہ جنگل ہے ۔ شام بھی ہونے والی ہے ، آگے شیر اور خطرناک جانور ہوتے ہیں، جن بھوت بھی ہوتے ہیں۔۔
میں: جی معلوم ہے۔ اُن سب کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ ہتھیار بھی ہے پاس۔ ویسے بھی پورا گروپ ہے ۔ تو فکر کیسی۔۔
مقامی: ٹھیک ہے ، پھر دیکھ لیں۔ شام ہورہی ہے ۔ ہم بھی اب واپس جارہے ہیں کوئی مسئلہ ہوا تو کوئی بچانے نہیں آئے گا۔۔
میں: جی ٹھیک ہے ۔ ہم اپنا مکمل بندوبست کر کے جارہے ہیں۔ اور یہاں جاتے رہتے ہیں۔۔ کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں آئے۔۔

یہ سب باتیں کرتے ، ریسٹ کرتے مجھے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ تقریباً 4 بجے میں نے نیچے ڈگری بنگلہ کی طرف اُترائی شروع کی، میں جانتی تھی کہ مجھے دیر ہوچکی ہے۔ لیکن میرے علم میں یہی تھا کہ 5 بجے سورج غروب ہوگا، تو بھی اگر 7 بجے بھی میں اپنی منزل پر پہنچ گئی تو خیر ہے۔ ٹارچ بھی پاس ہے تو مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔
لیکن میں نے برف کو، جنگل کو اور رات کو ہلکا لے لیا اور وہ مجھ پر بھاری پڑ گئی۔۔۔

میں اللہ سائیں کا نام لے کر ٹریک کر رہی تھی۔ مجھے زیادہ مشکل نہیں ہورہی تھی کیوںکہ برف میں کچھ قدموں کے نشان بنے ہوئے تھے ۔ اُترائی تھی تو اتنا مسئلہ نہیں ہوا۔۔ میں چلتی جاتی ، وڈیو بناتی۔ جگہ جگہ رُک کر ٹرائے پوڈ سیٹ کر کے تصاویر بناتی لیکن برف میں میرا تین ٹانگوں والا دوست تھوڑا ڈس بیلنس بھی ہوجاتا تھا۔۔۔

اب مجھے ٹریک اچھا لگ رہا تھا۔ صاف ستھرا ، اور تنہا ٹریک۔

آس پاس گہرے درخت تھے، میرے قدموں کی آواز جو برف پر پڑتی وہ ایک خوبصورت آواز بنتی ، کھرچ کھرچ، میرے دماغ پر پڑے ڈپریشن کو کُھرچتی یہ آواز ختم کر رہی تھی۔ مجھے سکون مل رہا تھا۔۔۔

اب ایک جگہ پہنچی جہاں مجھےنظر آرہا تھا کہ سورج اب غروب ہونے لگا ہے۔ اُسی وقت ماں جان کی کال آگئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ سگنلز یہاں موجود تھے۔۔

میں: اسلام علیکم
ماں جان: کہاں پہنچی ؟؟؟ سب ٹھیک ہے؟
میں : ہاں سب ٹھیک ہے بس پہنچنے والی ہوں مزید آدھا گھنٹہ( میں نےاُن سے جھوٹ بولا، کیونکہ میں جانتی تھی وہ پریشان ہونگی)
ماں جان: شام ہونے والی ہے مسا۔ تمہیں راستہ سمجھ آرہا ہے نہ؟ پہنچ کر مجھے انفارم کرنا۔۔۔مجھےفکر ہورہی ہے۔۔۔
میں: ہاں بس آگے ہی بنگلہ آنے والا ہے۔ راستہ سمجھ آرہا ہے۔ اور نیٹورک کا پتہ نہیں۔ شاید انفارم نہ کرسکوں۔ پر میں ٹھیک ہوں فکر نہ کریں۔۔۔

فون رکھتے میں نے اپنی اسپیڈ بڑھا لی کیونکہ میں جان چکی تھی کہ سورج غروب ہورہا ہے اور جلد اندھیرا ہوجائے گا، اب کے راستے میں برف زیادہ تھی اور میں تھک بھی چکی تھی۔ میں چاہتی تھی بس جلدی سے پہنچ جاؤں۔۔۔
میں ریسٹ نہیں کر رہی تھی۔ بس چل رہی تھی۔۔۔ یکدم سے ایسا محسوس ہوا کہ اب ٹریک نظر نہیں آرہا۔
میں وہیں نیچے بیٹھی ، بیگ اُتارا، ٹارچ نکالی، کچھ اخروٹ کھائے، پانی پیا، پھر دوبارہ بیگ پہن کر اُٹھ کر ٹارچ جلا لی۔۔
اب میں ٹارچ کی روشنی میں ٹریک کر رہی تھی۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ بس جہاں ٹارچ کی روشنی پڑتی وہ جگہ اورمیرے قدم مجھے نظر آتے تھے۔ میں کہیں کہیں رُک کر اپنے سامنے راستے کا اندازہ لگانے کے لیے ٹریک پر ٹارچ کی روشنی سے دیکھتی تو بس سیدھا سیدھا برفوں والا راستہ نظر آتا اورآس پاس گہرے درخت۔ چلتی جاتی چلتی جاتی، ایک کے بعد دوسرا موڑ آتا پر راستہ ختم نہ ہوتا۔۔۔

یہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ آپ پریشر میں ہوتے ہیں۔ ایک ڈر ، ایک خوف ضرور ہوتا ہے چاہے آپ کتنے بہادر بن جائے۔ میں مانتی ہوں میں بہت بہادر ہوں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے خوف نہیں ہوتا۔ مجھے جن بھوت کا تو کوئی خوف نہیں تھا۔ اور نہ کسی انسان کا، کیونکہ مجھے علم تھا کہ اس گہرے جنگل میں اس وقت کم سے کم کوئی انسان نہیں ملے گا۔ بس جانوروں کا خوف تھا، مجھے علم تھا کہ سردیوں کے موسم میں تیندوے بھوکے ہوتے ہیں۔۔تھکاوٹ اپنا اثر دکھا رہی تھی اور مجھے بھوک بھی لگی ہوئی تھی، سردی بھی اپنا کمال دکھا رہی تھی، میری ناک فریزر بنی ہوئی تھی۔۔۔

اورایسے وقت میں جب آپ اکیلے ہوں تو آپ کو بہت کچھ یاد آتا ہے جیسے کہ آپ کے لیے آپ کی زندگی میں کون کون لوگ زیادہ قیمتی ہیں۔یا پھر آپ کس کے لیے قیمتی ہیں ، یا اگر آپ مر جائیں تو کس کس کو فرق پڑے گا۔ کس نے آپ کا کب کب ساتھ دیا۔ مطلب اللہ سائیں کی دی ہوئی ہر اُس نعمت کا احساس ہوتا ہے جس پر ہم دھیان نہیں دیتے۔ ہمارے سر پر چھت ہے، ہمارے پاس کپڑے ہیں، ہمارے پاس کھانا اور پانی موجود ہے، ہم صحیح طرح سانس لے سکتے ہیں ، ہمارے چاہنے والے ہمارے پاس ہیں، یہی وہ نعمتیں ہیں جن کو ہم نظر انداز کرتے ہیں اور ایسے جنگل ویرانوں میں آکر احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے ناشکرے ہیں۔۔۔
اور پھر سہیلی سے یہ بھی باتیں ہوتی ہیں کہ اس دنیا میں آنے کا کیا مقصد؟؟ کیا یوں ہی جنگلوں ، پہاڑوں کے پُر خطر راستوں پر چلنے کا نام زندگی ہے؟؟ میں یہ سب کیوں کر رہی ہوں، ایسا کیا چاھئیے مجھے جس کے لیے اپنے جان کی پرواہ کیے یہاں بھٹک رہی ہوں۔ ایک عقلمند انسان ، مشھوری یا پئسے کے لیے تو یہ سب نہیں کرے گا، اور نہ میں چاہتی ہوں کہ میری لوگوں میں واہ واہ ہو کہ یہ کتنی بہادر ہے۔۔
پھر کس لیے یہ راہیں اختیار کر لی ہیں؟؟؟
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری زندگی کا پہلا ٹریک میرانجانی کا جو میں نے اکیلا کیا وہ بھی اس لیے نہیں کیا کہ میں مشھور ہوں اور لوگ مجھے جانے، میری واہ واہ کریں۔ میں جس ماحول میں پلی بڑھی یا جو کچھ اپنے آس پاس ماحول دیکھا جو ایسا تھا جہاں بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دی جاتی۔
جیسے بیٹی انسان نہیں۔ اُس کو ایسے گھٹن کے ماحول میں رکھا جاتا کہ جہاں اُس کی ذات کی کچھ قدر نہ ہوتی۔ بس گائے بکری کی طرح جہاں مرضی باندھ دو اور وہ میں میں کرتے یا ہاں ہاں کرتے زندگی گزاردے۔ اگر اس کے خلاف ہو تو وہ باغی ہے۔۔۔ میں اپنے پہلے ٹرپ پر گھر سے بھاگی تھی۔۔۔ مجھے اپنے آپ کو ڈھونڈنا تھا، مجھے ایک کُھلی فضا میں سانس لینا تھا اس لیے میں نے میرن پر ٹریک کیا۔۔ اور اسی طرح میرا یہ سفر بھی دنیا میں مشھوری کی خاطر نہیں ہے اور نہ کبھی آگے آنے والا کوئی سفر مشھوری کے لیے ہوگا۔ میں اپنی ذات کے لیے سفر کرتی ہوں کیونکہ یہ میرے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔۔۔ اورہاں مجھے تنہائی پسند آگئی ہے۔۔۔

کھرچ ۔۔۔
کھرچ۔۔۔

یہ میرے قدموں کی آواز تھی ، برف زیادہ تھی تو مجھے اپنے قدم نکال کر دوبارہ رکھنے میں محنت کرنی پڑ رہی تھی۔۔۔ میں اپنے قدموں کی آواز سے مانوس ہوچکی تھی۔ آس پاس کی آوازیں بھی اب ماحول کا حصہ بن چکی تھی۔۔ لیکن اس سے ہٹ کر مجھے کچھ اور آواز بھی سنائی دی۔۔۔
میں یکدم پریشان ہوئی اور ڈر بھی گئی۔۔ پہلے لگا یہ میرا وہم ہے۔ اکیلا ٹریک کرتے کرتے تھکن کی وجہ سے یہ ہورہا ہے۔۔

کھرچ کھرچ ، میرے قدموں کی آواز
کھرچ کھرچ، یہ میرے پیچھے چلتے کسی کے قدموں کی آواز تھی۔۔

میں پیچھے مُڑے بغیر الرٹ ہوئی۔۔۔کیونکہ میں سو فیصد جان چکی تھی کہ یہ واقعی کسی اور کے قدموں کی آواز ہے۔ بلکل میرے جوتوں کی طرح کی آواز ہوتی۔ میں ایک قدم اُٹھا کر ابھی رکھنے والی ہوتی، مطلب میرا قدم ابھی ہوا میں ہوتا تو میرے پیچھے کسی کے قدم برف میں رکھنے کی آواز آتی۔۔۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔