اردو سیکشن

“ چیپٹر ون “

“ چیپٹر ون “

میں کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم۔

میرے علم میں نہیں تھا کہ گلگت میں بھی کوئی ایسی باذوق سی جگہ موجود ہے جہاں پہنچ کر آپ کو بہتہائے لیول کی وائبز ملتی ہیں۔

سب سے پہلے اس تحریر کی شروعات اور اس تحریر کے اختتام پر محمد شعیب کا تھینک یو کرنا چاہتی ہوںجومجھے اس جگہ لے گئے۔

ہوا کچھ یوں کہ چلتے چلتے شعیب نے بتایا کہ یہاں ایک بہت پیاری جگہ ہے جو کہ ایک بُک اینڈ کوفی شاپہے۔

میری زندگی میں یہ دونوں چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اور اس کی وجوہات بہت ساری ہیں، پھر کبھیڈسکس کریں گے، یا اگر آپ مجھے پڑھتے رہتے ہیں تو جانتے ہی ہونگے۔

چیپٹر ون کے باہر گاڑی رُکی اور میں نے دیکھا کہ یہ ایک عام سی بُک شاپ ہے۔ لیکن میں اسے عام ہیسمجھتی رہی جب تک میں اندر داخل نہیں ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ کسی بھی کتاب کو اُس کے ٹائیٹل سےجج نہیں کرنا چاھئیے تو بس اس شاپ کو بھی آپ باہر سے جج نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے اندر تو خزانےرکھیں ہیں پر صرف اُن کے لیے جو اُس کو خزانہ سمجھتا ہو۔

تو جناب ہوا کچھ یوں کہ میں جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو سامنے رکھے صوفے پر ایک بہت ہی پیاری سیآنکھوں والی لڑکی بیٹھی تھی۔ سلام دعا ہوئی اورپتہ چلا کہ وہ ثمینہ خان ہیں ، جو کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹیگلگت میں انگریزی لٹریچر اینڈ لینگویج کی استاد ہیں، اس کے علاوہ یہ بہت پیاری سی جگہ جو کہ ایک بُکاینڈ کافی شاپ ہے یہ بھی چلاتی ہیں۔

اس جگہ کے پیچھے دو پیاری خواتین ہیں، ثمینہ اینڈ شہانہ جو کہ آپس میں دوست بھی ہیں ۔

انہونےسوچا کہ گلگت میں کوئی ایک ایسی جگہ ہو جہاں فکشن ، لٹریچر اور ہسٹری کی کُتب آسانی سے ملسکیں اور ساتھ کوفی بھی مل سکے،

شہانہ شاھ ایک ڈیولپ آرگنائزینش میں ڈاریکٹر ہیں۔شہانہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھی تو اُن سے ملاقاتنہ ہوسکی۔

یہاں آپ جاکر کافی آرڈر کر کے کوفی پی سکتے ہیں، اور جب تک آپ کی کوفی تیار ہو تب تک آپ کتابدیکھیں کہ کونسی کتاب آپ خرید سکتے ہیں۔ پھر جب کوفی بن کر آجائے تو صوفے پر بیٹھ جائیں اور کوفی پئیےلیکن آہستہ آہستہ ، یہ آہستہ کے پیچھے کیا کہانی ہے وہ تو میں آپ کو بعد میں بتاتی ہوں، پہلے یہ بتاتی چلوں کہچیپٹر ون پر آہستہ کوفی پینے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو مزید اور وقت مل جاتا ہے کتابیں چھاننے کا۔

اب آتے ہیں کہ میرا کوفی آہستہ پینے کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ یہ بہت کام کی بات ہے ، سچ میں دوپٹے سےباندھ لیں، دوپٹے کا پلو نہیں تو پاکٹ تو ہوگا ، اُس میں سنبھال لیں۔

مسا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ مسا کو راہ کافی کا ایک پیکٹ تھما دو میں بس اُس کی خوشبو میں مستہوجاؤں گی۔ زندگی میں جینے کے لیے سانس جتنا ضروری ہے اُتنی ضروری میرے لیے کافی ہے۔بہت بارمیں نے کوفی بناتے پہلے اُس کی بوٹل کھول کر کافی دیر اُس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتاری ہے۔ اور تواور کبھی پرفیوم چیک کرتے جب دکاندار آپ کو کوفی کے بینز کی بوٹل تھماتا ہے کہ شاید اب پرفیوم کی خوشبوسمجھ آجائے پر وہ تو پرفیوم کی خوشبو سمجھ نہ آنا تو ایک بہانہ ہوتا ہے کیونکہ کافی کی خوشبو محسوس کرنی ہوتیہے۔

میرے پاس جب کوفی کا مگ آتا ہے۔ میں اُسے آہستہ آہستہ اس لیے پیتی ہوں تاکہ ہر ایک گھونٹہ میںخوشبو اور ذائقہ محسوس کر سکوں اور پھر اسی وقت میں بہت کچھ سوچ بھی لیتی ہوں یہ تخلیقی وقت ہوتاہے۔ یقین نہیں آتا تو آزما لیں۔

تو جناب اب آپ کو وجہ معلوم ہوگئی ہوگی، ہم آتے ہیں کام کہ بات کی طرف۔

چیپٹر ون میں داخل ہوتے آپ کو آس پاس دیواروں پر بے حد خوبصورت پہاڑوں کی تصاویر نظر آتی ہیں۔مزید آپ کو بُک شیلفز نظر آتے ہیں جہاں بہت ساری ورائٹی ملتی ہے کتابوں کی، خاص کر کے انگلشبُکس۔

اور اُس کے ساتھ ہی آپ کو کوفی کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے جو سب پر بھاری ہے۔

میں نے وہیں کھڑے کھڑے کافی سارے کُتب دیکھ لیں، کچھ خریدنے کے لیے بھی سیلیکٹ کر لی ۔

یہ جگہ کافی پیاری ہے، اگر کبھی گلگت جانا ہو تو اس جگہ جو مس کرنا بیوقفی ہے۔

یہ بُک اینڈ کافی شاپ آپ کو نوید شہید روڈ ذوالفقارآباد میں ملے گی۔

اپنی تحریر کا اختتام ایک دوست کو شکریہ کرتے کروں گی۔

اور آپ سب کے لیے ایک سوال،

“ کبھی کتابوں کی خوشبو محسوس کی ہے ؟ “

کُتب اور کوفی کی خوشبو میں ،

مست الست مسا

؀مساتالپور