Baltistan,  اردو سیکشن

“ دور کہیں بُلند دیوسائی میں “

“ دور کہیں بُلند دیوسائی میں “

کتاب دیوسائی میں ایک رات جب میری سالگرہ کے تحفے میں مجھے ملی اُس ہی وقت ایک عجیب سے کیفیت میں مبتلا ہوگئی تھی ، کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کیا حال ہوگا ۔۔کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ کتاب پڑھنے کے بعد میرے حالات مختلف ہوجائیں گے۔۔۔
جس طرح ایک جھانگرد ، جگہ جگہ رُلنے کے بعد مختلف ہوجاتا ہے۔۔۔
کتاب پڑھنا شروع کی تو تجسس مزید بڑھتا گیا۔۔
“ اور۔۔۔ دیوسائی کیا ہے؟ “
اس چیپٹر تک پہنچتے ہی تڑپ اس قدر بڑھ گئی کہ دل کرتا تھا کہ بس کتاب کو چھوڑ دوں اور دیوسائی کے لیے نکل جاؤں۔۔۔ لیکن مجھے دیوسائی پہنچتے ایک سال لگ گیا۔۔
میں نہیں جانتی تھی معلم ( محمد احسن) نے جو کچھ اس کتاب میں بیان کیا ہے ، دیوسائی اُس سے کہیں زیادہ بڑھ کر کیفیت میں مبتلاُکرنے والا مقام ہوگا۔۔ ہاں میں نے دیوسائی کو ہلکا لے لیا تھا۔۔۔
میرے خیال سے دنیا کی کوئی تصویر ، کوئی وڈیو ، یا کوئی بھی سفرنامہ دیوسائی کو بیان نہیں کر سکتا ۔۔۔ اُس کے لیے سفر کرنا ضروری
ہے۔۔۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معلم نے اپنی ساری مثبت اینرجیز اس کتاب میں ڈال دی ہیں۔۔۔ لیکن ایک سوال رہتا تھا۔ جس کا جواب لینے مجھے وہاں جانا ہی تھا۔۔۔
میں دیوسائی گئی اور معلم کی کتاب اپنے ساتھ لے گئی تھی۔۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ اس کتاب کو وہاں ہونا ضروری تھا ۔۔۔

میرے لیے دیوسائی کیا ہے یہ اگر میں چاہوں پھر بھی بیان نہیں کرسکتی۔۔ بس اتنا سمجھ لئجیے کہ :
“ دیوسائی کو دیکھنے کے لیے محض دو آنکھیں کافی نہیں ، اُس کو دیکھنے کے لیے قلب وسیع ہونا چاھئیے ، قلب کی آنکھیں کھُلی ہونی چاھئیے، تب ہی سارا دیوسائی آپ کے اندر سما سکتا ہے۔۔”

ایک وسیع ، بُلند و بالا میدان ہے، جہاں کائنات کے ہر رنگ کے پھول کھلے ہیں، جہاں بادل بھی ہوا کے ساتھ رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں جھیل شیوسر اپنے نیلے پانیوں کے ساتھ مزید ماحول کو خوبصورت بناتی ہے۔ جہاں مرموٹ کی سُریلی سیٹی کانوں میں اس طرح رس گھولتی ہے مانوں دنیا کے مہنگے ترین میوزک سسٹم لگائے ہوں۔
ہاں میں وہیں اُس ہی دنیا کے بُلند و بالا میدان میں اپنے آپ کو اُس نیلی جھیل کے کنارے بیٹھے دیکھتی ہوں۔۔
وہ مجھ سے محو گفتگو ہے۔
کہتی ہے ، پتہ ہے جب مجھ میں تمہارے محبوب کا عکس بنتا ہے تو میرا ایک الگ روپ ہوتا ہے ۔ باذوق لوگوں کے دل میں میری عزت و مقام ویسے ہی اعلیٰ ہے پر جب تمہارا محبوب میرے نیلے پانیوں کے عکس میں نظرآتا ہے تو وہ منظر ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔۔۔
میں اُسے کہتی ہوں ، جانتی ہو، میں بھی وہی منظر دیکھنا چاھتی ہوں۔۔۔ میں تمہارا ہر روپ دیکھنا چاھتی ہوں۔۔۔
یکدم سے مجھے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مجھے بُلا رہا ہے۔۔
مسا
مسا
مسا
میں یہاں وہاں دیکھتی ہوں پر کوئی نظر نہیں آتا ، یکدم سے آنکھ کُھلتی ہے اور میں اپنے آپ کو اپنے بستر پر پاتی ہوں اور سامنے ماں جان کو دیکھتی ہوں، جو کہہ رہی ہیں کہ دوائی کھائی تھی ؟ کیسا ہے تمہارا بخار۔۔۔
میں : آپ نے مجھے کیوں اُٹھایا۔ جانتی ہیں شیوسر سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
ماما: پاگل ہو کیا ؟؟؟

میں جانتی تھی وہ ایک خواب تھا ۔۔
جانتی تھی کہ مجھے شیوسر بُلا رہی ہے۔۔۔
جانتی تھی کہ دیوسائی کے میدان مجھے بُلا رہے ہیں۔۔

پر یہ خواب جلد حقیقت میں بدلنے والا ہے اس بات کا علم نہیں تھا۔۔۔

 

پھر وہ وقت بھی آیا جب میں خواب میں نہیں۔ حقیقت میں شیوسر کے پاس بیٹھی اُس سے باتیں کر رہیں تھی۔۔ جب میں نے حقیقت میں بادلوں کو رقص کرتے دیکھا۔۔۔
میں نے جب وہاں سچ مچ مرموٹ کی سُریلی سیٹی سُنی۔۔ جب اُس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر بھاگا نہیں بلکہ سیدھا کھڑا ہوکر ویلکم کر رہا تھا۔۔۔
یہ دیوسائی کے ماحول کا اثر تھا کہ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
شیوسر کے پانیوں کو چھوتے اُس کی ٹھنڈک کا احساس ہوا۔۔
پھر اُس سے گفتگو شروع ہوئی اور یہ خاموشی میں ہوتی ہے۔۔۔

شیوسر : مسا خوش آمدید
میں: شیوسر تمہیں اندھی جھیل کہا جاتا ہے کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ یہ نیلے رنگ کا پانی کہاں سے آتا ہے اور کہاں سے جاتا ہے۔۔۔ ویسے مجھے یہ نام پسند نہیں آیا ۔
شیوسر : میں رب کریم کی شان بیان کرتی ہوں۔۔۔اور میرے ہزاروں روپ ہیں۔۔۔
میں: مجھے تمہارے سارے روپ دیکھنے ہیں۔۔۔
شیوسر : اُس کے لیے تمہیں یہاں رہنا پڑے گا ۔۔۔ ویسے تم یہ قریب والی پہاڑی پر جاکر میرا ایک اور روپ دیکھ سکتی ہو۔۔۔
پھر کہا:
شیوسر: اور تم جانتی ہو دیوسائی میں میرے جیسی کافی جھیلیں ہیں جن کا کسی کو علم نہیں۔۔۔
میں : میں وہ سب دیکھنا چاھتی ہوں ، میں جلد دوبارہ آؤں گی ۔۔۔

میں شیوسر کے قریب ایک چھوٹی پہاڑی ہے وہاں جانے لگی۔۔۔ ویسے تو لگتا ہے چھوٹی ہے پہاڑی ہے پر کوئی تیس چالیس منٹ لگ ہی جاتے ہیں۔۔ چلتے چلتے سامنے سے یونیفارم میں ایک بندہ نظر آیا ۔۔ پتہ چلا کہ وہ وائلڈ لائف کے ادارے سے ہیں۔ جن کا نام ہمایوں رشید تھا۔۔ اُن سے سلام دعا ہوئی۔ اُس کے بعد وہ بتانے لگے کہ اُن کا کام یہاں دیوسائی جیسے مقام کی حفاظت کرنا ہے۔۔ لوگ یہاں آتے ہیں تو یہاں کے پھول توڑتے ہیں، اُس کے علاوہ کچرا دان رکھے ہوتے ہیں پھر بھی یہاں وہاں کچرا پھینکتے ہیں اور ہمارا کام اِن سب پر نظر

رکھنا ہے اور یہاں کے جانورں کی حفاظت کرنا بھی۔۔۔
پھر میری نظر ایک پتھروں سے بنے ٹاور پر پڑی، یہ اس طرح تھا کہ ایک پتھر کے اوپر دوسرا اور دوسرے پر تیسرا رکھا تھا اور اس طرح پورا ایک ٹاور بنا تھا ۔۔۔ اور یہ ٹاورز جگہ جگہ بنے تھے۔۔


میں نے ہمایوں رشید صاحب سے پتہ کیا تو اُنہونے بتایا کہ کچھ لوگ یہاں آتے ہیں اور جب اس مقام پر پہنچتے ہیں تو اس طرح پتھروں سے ٹاور بناتے ہیں جس کو مقامی زبان میں بوتھی بولتے ہیں۔۔
یہ ایک یادگار کی طرح ہوتی ہے کہ آپ یہاں آئے تھے اور ایک سائن ہوتا ہے کہ آپ دوبارہ یہاں آئیں گے اور یہ آپ کی بنائی بوتھی آپ کو اس ہی حالت میں ملے گی جیسی چھوڑ گئے تھے۔۔۔
ہائے میں تو یکدم سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ یہ دیوسائی کے پتھر بھی بڑے باذوق ہیں۔۔ پتھروں کا ٹاور جس مالک کا ہے وہ اُس سے وفا کرتے ہیں۔۔۔ جس حال میں چھوڑ جاؤ ویسے ملتے ہیں اور یہ انتظار بھی کرتے ہیں ۔۔۔
بس پھر کیا تھا مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے بھی وہاں کے قریب سے چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کئیے اور اپنا ٹاور بنایا ، عین محبوب نانگا پربت اور شیوسر کے سامنے۔۔
اب وہ باذوق پتھر جو میرے نام کے ہیں وہاں ہر پل محبوب نانگا پربت اور شیوسر کے دیدار میں مست ہیں۔۔۔
اس مقام سے شیوسر کا ایک الگ روپ نظر آیا ۔۔۔ وہ مجھے مکمل نظر آنے لگی اور اُس کے پار میرا محبوب نانگا پربت بھی مجھے اپنا دیدار کروا رہا تھا۔۔ آس پاس کچھ بادل تھے لیکن اُس نے مکمل پردہ نہیں کیا تھا۔۔۔
اُس کو دیکھتے جو حالت ہوتی ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا سخت مشکل ہے ۔۔۔

دیوسائی کے میدان کا ہر ایک ایک کونہ خوبصورت اور الگ ہے۔۔۔ کہیں آپ کو دھوپ نظر آئے گی تو کہیں سایہ۔۔۔ جگہ جگہ ہزاروں پھول نظر آئیں گے ، قریب جاکر دیکھیں گے تو پتہ لگے گا کہ یہ ایک پھول نہیں بلکہ ننے منے پھولوں کا ایک گلدستہ ہے۔۔۔
آپ ایک عاشق ہوں ، اور دیوسائی جائیں تو وہاں سے واپس آپ کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں آتے۔۔۔ محبوب نوازتا ہے۔۔۔ اور خوب نوازتا ہے۔۔۔
پھر وہ کچھ سگنلز بھی دیتا ہے ۔ جس سے محسوس ہوسکے کہ واقعی ہم کچھ لے کر جارہے ہیں، جو ظاہری تو نظر نہیں آتا پر اندورنی بہت کچھ تبدیل ہوچُکا ہوتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ آپ کی مسکراہٹ بھی تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔۔۔

“ ایک جھانگرد کی مسکراہٹ مختلف ہوتی ہے”۔۔۔

تھوڑی ضروری معلومات بھی فراہم کرتی جاؤں ۔۔۔

دیوسائی سطح سمندر سے 13500 فٹ اُنچائی پر واقع ہے۔۔۔اس کی بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3000 مربع کلو میٹر ہے۔ سال کے آٹھ تا نو مہینے دیوسائی مکمل طور پر برف میں ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں تیس فٹ تک برف پڑتی ہے ۔۔۔ گرمیوں میں یہاں مختلف قسم کے ہزاروں پھول کھلتے ہیں جس میں کافی جڑی بوٹیاں ہیں جو کہ ہر قسم کے مرض کے لیے مددگار ہیں۔۔۔
دیوسائی کو دیکھنے کا سب سے خوبصورت وقت گرمیوں کا ہے کیونکہ اس موسم میں آپ کو مختلف تتلیاں بھی نظر آجاتی ہیں۔ مرموٹ بھی باہر نکل آتے ہیں۔۔۔ اور رات میں کبھی کبھار ریچھ سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔۔۔
کچھ وقت پہلے کی بات تھی جب دیوسائی جانے کے لیے مکمل تیاری کرنی پڑتی ، اپنا سامان بھی اُٹھانا پڑتا پر اب وہاں کافی سارے ٹینٹ ہوٹلز بن گئے ہیں۔ جو آپ کو طعام و قیام فراہم کرتے ہیں۔۔۔ لیکن کچھ کچھ میرے اور آپ جیسے سر پھرے ہوتے ہیں جو اپنا ٹینٹ اور سامان ساتھ لے جاتے ہیں۔۔۔


اگر آپ فشنگ کا شوق رکھتے ہیں تو دیوسائی میں وہ بھی میسر ہے۔۔۔
دیوسائی کی بات ہو اور اُس کی ہیر شیوسار کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہوگی۔۔۔
شیوسار 12677 فٹ بلند جھیل ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی سطح ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس مین پانی نا کہیں سے داخل ہوتا ہے نا خارج اس لیے مقامی لوگ اسے اندھی جھیل کہتے ہیں۔۔ شیوسار کے پانی یخ ٹھنڈے اور صاف و شفاف ہیں۔۔۔ کبھی کبھار شیوسار کے پانیوں میں محبوب نانگا پربت کا عکس بھی نظر آجاتا ہے جو کہ خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے۔۔۔

دیوسائی کی بات ہو اور وہاں کے ریچھوں کو بھول جائیں تو تحریر مکمل نہیں ہوتی۔۔۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا میدان ہے جہاں باذوق ریچھ پائے جاتے ہیں۔۔ اب میں نے یہ لفظ باذوق کیوں استعمال کیا ، اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔۔۔
کہانی کچھ یوں ہے۔۔۔
میں نے وائلد لائف کے آفیسر سے پوچھا کہ کوئی ایسا واقعہ بتائیے جو آج تک آپ کو بھولا نہ ہو اور انوکھا بھی ہو۔۔۔

وائیلڈ لائف آفیسر بتاتے ہیں کہ ابھی کچھ دن پہلے لاہور سے لڑکوں کا ایک گروپ آیا تھا۔۔۔ جنہونے شیوسار کے قریب اپنا کیمپ لگایا ۔۔۔ ہم نے اُنہیں منع بھی کیا کہ یہاں ٹینٹ نسب نہ کریں کیونکہ رات میں دیوسائی میں ٹھنڈ ویسے بھی ہوتی ہے شیوسار کے پاس مزید ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن اُنہونے ایک نہ سنی۔۔۔ اُس کے بعد رات میں اُنہونے وہیں شیوسار کے پاس اپنا بار بی کیو سیٹ اپ کیا، گوشت پر مرچ مصالحے لگا کر پکانے کے لیے رکھا ہی تھا کہ مھمان کی آمد ہوئی ۔۔۔ جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے ہیں، یہ دیوسائی کا بِگ بی تھا۔ مطلب سب سے بڑا والا ریچھ جو یہیں کہیں شیوسار کے پاس رہتا ہے۔۔۔ اُس کو باربی کیو کی خوشبو اپنی گار میں محسوس ہوئی تو اُسے پتہ لگ گیا کہ لاہوریوں نے دعوت کی ہے۔۔۔
بس پھر کیا تھا وہاں دھڑام چوکڑی مچ گئی۔۔۔ سب بھاگنے بچانے لگے۔۔۔ اور وہ مھمان اپنا حصہ لے کر چلا گیا۔۔۔ وہاں وائلڈ لائف کے آفیسرز نے اُن سیاحوں کو بچانے کے لیے کافی مدد بھی کی۔۔۔
اب بتائیے کہ دیوسائی کے ریچھ ہے نہ باذوق ریچھ ۔۔۔
•••
دوسائی کی بات ہو اور وہاں کے پھولوں کی بات نہ کی جائے تو یہ تحریر ادھوری ہی رہے گی۔۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ دیوسائی کے پھول دیکھتے میں کس قدر پاگل ہوگئی تھی کہ یکدم سے جیپ رُکوا کر بھاگتے ہوئے اُن پھولوں کے پاس جاکر اُن کو محسوس کرنا چاھتی تھی۔۔۔
جب اُن پھولوں کے پاس گئی تو معلوم ہوا یہ کوئی ایک پھول نہیں بلکہ ہزاروں پھولوں کے ننے منے گلدستے ہیں ۔۔۔ ہائے یہ سچ میں میرے لیے کھلے ہیں کیونکہ میں اِن کی خوشبو محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔
دیوسائی میں ایک رات سے میں ایک چھوٹا سا اقتباس شئیر کرنا چاہوں گی ۔۔۔

“ میں حیران رہ گیا کہ چھوٹے چھوٹے پھول گلدستے کی شکل میں جابجا تھے۔ دور سے ایک ہی پھول لگتا تھا مگر قریب آنے پر وہ پورا گلدستہ ہوتا ہے۔۔ ماحول میں جو خوشبو تھی وہ کوئی اور تھی۔۔اور انفرادی طور پر ہر گلدستے کو سونگھنے سے ایک مختلف خوشبو آتی تھی۔ ہم اگر مصنوعی طور پر دو یا دو سے زیادہ خوشبوئیں جمع کر لیں تو وہ بنیادی طور پر بدبو بن جاتی ہے۔۔مگر یہاں ہزاروں قسم کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں سے طرح طرح کی خوشبوئیں نکل کر ایک منفرد خوشبو بن رہی تھی۔۔ جو روح کو سیراب کرتی تھی۔۔ہم فطرت کی طرف متوجہ ہوگئے جو ہر لحاظ سے انسان کے ذوق کا خیال رکھتی ہے۔۔
اور فطرت کیا ہے ؟ ۔۔۔
کم سے کم “ کو اِنسی ڈینس” تو ہرگز نہیں لگتی۔۔۔۔
حیرت کا مقام یہ تھا کہ دیوسائی سال کے نو سے دس مہینے برف میں اور ڈیڑھ سے دو مہینے خزاں میں رہتا ہے۔ محض ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے یہ پھول عالمِ عدم سے عالمِ وجود میں آتے ہیں، غدر برپا کر دیتے ہیں اور مدہوش کُن خوشبوئیں پھیلاتے ہیں۔۔۔
ارتقائی سائنسدان جو بھی کہتے رہیں کہ یہ پھول ازواج رکھتے ہیں اور اُنہیں اپنی طرف مائل کرنے کے لیے خوشبوئیں پھیلاتے ہیں ۔۔۔ ایک ایسا کام جو انسان بھی کرتا ہے ۔۔ مگر اِن پھولوں کے درمیان کھڑے ہوکر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہیں ۔۔۔۔یہ سب کچھ اُس کے لیے تخلیق کیا گیا جو یہاں پہنچ گیا ۔۔۔ یا جِسے بلایا گیا۔۔۔” ( محمد احسن)

ہاں سچ میں اِن دیوسائی کے پھولوں نے ایسی ہلچل مچائی ہوتی ہے کہ اہلِ ذوق مدہوش ہوئے بنا رہ نہیں سکتا ۔۔۔ کم سے کم میں تو بھرپور طرح سے دیوسائی کی خوشبو میں مست تھی ۔۔۔

واپسی جب جیپ میں بیٹھنے لگی تو اپنی جامنی بیگ کی طرف دیکھا کہ اُس کے اوپر دیوسائی کے خوبصورت پھولوں سے بنا ایک گلدستہ رکھا ہے ۔۔۔ میں نے اپنے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔۔ تو کہتا ہے :

“ باجی ۔ لوگ آپ سے پوچھیں گے کہ دیوسائی سے کیا ملا ؟؟ تو آپ اُن کو یہ پھول دکھا دئیجے گا “

میرا جیپ ڈرائیور حسن بھائی بھی کافی باذوق نکلا ۔۔۔ آج بھی وہ پھول میرے پاس رکھے ہیں ۔۔سوکھ گئے ہیں پر اُن کی خوشبو نہیں جاتی ۔۔۔ ہاں معلم دُرست کہتے ہیں کہ دیوسائی کے پھول صرف اُس کے لیے ہیں جو دیوسائی پہنچ گیا ، یا جس کو بلایا گیا ۔۔۔

•••

آج جب اپنا فون یا کیمرہ چیک کر رہی ہوں تو صرف چند تصاویر ملتی ہیں جو میں نہ دیوسائی میں بنائی ہیں۔۔ مجھے نہیں علم میں وہاں جہاں کر کیون اس قدر ٹُن ہوگئی کہ مجھے تصاویر بنانے کا ہوش بھی نہ رہا۔۔ پہلے پہل تو دُکھ ہورہا تھا کہ میں نے اپنی ایک بھی ڈھنگ کی تصویر نہیں بنائی۔ لیکن جو کچھ وہاں دیکھا اور محسوس کیا اُس کے بعد میں خوش ہوں کہ میں وہاں جاکر اپنے ہوش کھو بیٹھی۔۔
میں نے دیوسائی کو لائیٹ لیا تھا ۔ اور ہر جہانگرد ہی دیوسائی کو لائیٹ لیتا ہے۔۔کیونکہ یہ ایسا مقام ہے جہاں خود جاکر ہی پتہ لگتا ہے کہ یہ کیسا مقام ہے۔۔ جو کچھ وہاں جاکر محسوس ہوتا ہے وہ دیوسائی کے سفرنامے اور تصاویر نہیں بتاسکتی۔۔
•••

دیوسائی میں بہت کچھ رہ گیا ہے ، جس کے لیے مجھے دوبارہ وہاں جانا پڑے گا ۔۔۔ اور اگر آپ اب تک دیوسائی نہیں گئے تو اپنا ساماں اُٹھائیں اور نکل جائیں ۔۔ لیکن پھر وہی بات کہ یہ وہ محبوب ہے جو اپنی مرضی سے بلاتا ہے ۔۔۔ پر ہم بھی وہ جھانگرد ہوں جو نہایت ڈھیٹ ہیں۔۔۔ وصل اور ہجر کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔۔۔

اس تحریر کا اختتام اپنی ایک نظم پر کرنا چاھتی ہوں ، جو ہر اُس جھانگرد کے لیے ہے جو دیوسائی جانا چاھتا ہے یا دوبارہ جانا چاھتا ہے۔۔۔۔

“ دیوسائی اے دیوسائی “ 💜

وعدہ رہا تم سے۔۔۔
تمہیں میں ملنے ضرور آوں گی۔۔
تمہں پتہ ہے کہ تم کیا ہو۔۔
مجھے بتایا ہے باذوق لوگوں نے،
کہ جیسے سیپ میں موتی یا نیند میں خواب،
کہ جیسے پھول میں خوشبو یا کتابوں میں پھول۔ ۔ ۔

سنو اے شیوسر
وعدہ رہا تم سے،
ہزاروں میلوں کی مسافت کچھ نہیں تمہاری مسکراہٹ کے آگے،
تمہارے نیلے پانیوں کو محسوس کرنا ہے۔۔۔
گر لیٹ ہو گئی تو اسے میری بے رخی مت سمجھنا،
رستہ تمہارا تک رہی ہوں سالوں سے۔۔۔
میں آوں گی، ضرور آوں گی۔۔۔

سنو اے دیوسائی کے پھول
وعدہ رہا تم سے ۔۔
تمہاری مدہوش کرتی خوشبوئیں
مجھے محسوس کرنی ہیں۔۔۔
میں آؤں گی ۔۔۔
جلد آؤں گی۔۔۔

سنو اے دیو سائی،
وعدہ رہا تم سے، میرا وعدہ رہا تم سے !!!!
( آزاد نظم : مسا تالپور)