اردو سیکشن

“مسکراتےموتی”

فیڈ بیک فار بُکس

فیڈ بیک فار مسافر شب بُکس
تحریر : مسا تالپور
عکاس: مسا تالپور
کتب:
  • انگلستان کے سو رنگ
  • کائنات
  • دیوسائی میں اک رات
  • دانہ دانہ دانائی
یہ بات شروع ہوتی ہے اک لحمے سے جو کہ اکِ سیکنڈ میں گزر گیا، وہ سعادت کا سیکنڈ تھا جب میری نظر اک گروپ میں مسافر شب کی اک پوسٹ پر پڑی جو کہ میرانجانی کے حوالے سے تھی۔۔
وہ چند لائینز کی تحریر بڑی کشش رکھتی تھی اور اک الگ طرز کی تحریر تھی جو کہ عام انسان نہیں لکھ سکتا تھا۔
عام انسان وہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جو انگریزوں کو پاکستانی مرچوں والے کھانے کے ساتھ گلاب جامن کھلا دے۔۔
یہ اسپائسی اور میٹھا ذائیقہ ایک ساتھ ہر کسی نے نہیں چکھا ہوگا۔ اگر چکھنا ہے تو پڑھئیے انگلستان کے سو رنگ۔۔۔
تو بات ہو رہی تھی پوسٹ کی۔ اُس پر نظر پڑنے کے بعد جب مسافر شب کا پرسنل اکاؤنٹ دیکھا تو میں دنگ رہ گئی۔۔
ایک سے ایک اعلیٰ رایٹ اپ۔ اُس وقت میری یہ حالت ہوتی تھی کہ میں مسافر شب کی تحاریر پڑھتی جاتی تھی اور بس پڑھتی جاتی تھی اُس میں اسٹاپ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میرانجانی پر لکھے بے تحاشا رائٹ اپس تھے اور چونکہ میں اُس وقت اپنے پہلے سولو کیمپنگ ٹرپ کی تیاری میں کوشاں تھی اور مسافرِ شب کے رائٹ اپس سے مدد حاصل کر رہی تھی۔میرے دل سے  ان کے لئیے دعائیں نکل رہی تھی۔
میں مسافر شب کے رائیٹ اپس پڑھتی رہی، اُن سے مستفید ہوتی رہی اور وقت گزرتا گیا ۔۔
پھر اپنے سفر سے واپسی آتے میں نے سوچا تھا کہ میں یہ پہلا اور آخری رائیٹ اپ تحریر کروں گی تاکہ دنیا کو اک موٹیوشنل حقیقی کہانی پڑھنے کو ملے جس سےشاید  کسی کی مدد ہوسکے۔
پر میرے معلم کے موٹیوشنل کمینٹس نے مجھ میں یہ لکھنے کا جذبہ اُبھارا ۔۔ 
“یہ چار اقساط آپ نے نہایت خوبصورتی اور روانی سے تحریر کی ہیں. یقیناً آپ میں زبردست تحریری جوہر موجود ہے.. جو اندازِ بیاں ہے، جو پیراگرافنگ کی ہے، اور جس طرح آپ نے محض سفر کا احوال ہی نہیں لکھا، بلکہ باموقع مقاصدِ تحریر اور نتائج پر بھی مفصل بات کی ہے. دعاگو ہوں کہ آپ مزید بھی لکھتی رہیں.. یقیناً آپ زبردست رائیٹر ہیں.” ( محمد احسن)
••••
یہاں یہ بات بتانا چاھتی ہوں کہ میں نے بچپن سے کبھی کسی کو استاد کا درجہ نہیں دیا کیونکہ والدین سے جو باتیں سنی تھی مجھے ملنے والے استاد اُس کے برعکس تھے ، اس وجہ سے وہ میرے لئیے میرے استاد کا درجہ رکھنے کی قابل نہیں تھے۔ 
میں مسافر شب کو اپنے معلم کا درجہ دیتی ہوں۔ اُن میں ہر وہ خوصوصیات پائی جاتی ہیں جو کہ اک بہتریں شفیق استاد میں ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں مسافر شب سے بہت کچھ سیکھا ہے ، سیکھ رہی ہوں اور سیکھتی رہوں گے۔
” میری تاڑر صاحب سے کوئی زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئی تھیں مگر میں نے ان کی کتب سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ جس طرح اولیاء الله کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اولیاء الله کی کتب بھی اولیا الله ہوتی ہے۔۔۔ اس طرح بہتریں اساتذہ کی کتب بھی وہ خود ہی ہوتے ہیں۔ اِسی نقط نظر سے میں نے اپنے آپ کو تاڑر صاحب کا شاگرد ظاہر کیا تھا”۔۔۔۔۔۔
(دیوسائی میں ایک رات سے اقتباس)
بس جی میرا بھی نظریہ یہی اوپر مندرجہ بالا اقتباس سے ہے جس کی بناہ پر میں محترم محمد احسن صاحب کو اپنا استادِ عظیم اور معلم سمجھتی ہوں۔ 
بہت سےآحباب کہتے ہیں کہ تاڑر صاحب سے زیادہ کوئی بہتریں سفر نامہ نگارنہیں ہے۔ اگر پڑھنا ہے تو اُسے پڑھو ۔ 
اس بات میں کوئی شک نہیں وہ لیجنڈ ہیں اک سلیبرٹی اور قومی ھیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کو پڑھا بھی ہے پر تاڑڑ صاحب کے کتب کو ھضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔۔
اس لئیے ہم تاڑڑ صاحب کے شاگرد سے ہی متاثر رہنا چاھتے ہیں۔ پہلے تاڑڑ صاحب کے شاگرد کی کتب تو ھضم کر لینے دیں۔ ھم اسی میں خوش ہیں۔
پہلے حضرت شاھ شمس تبریز(رح) تک تو پہنچ جائیں پھر مولائے کائنات علی(ع) تک پہُچننے کا سوچیں۔۔
••••
 
میری سالگرہ کا دن قریب آنے کو تھا اور میں فیک وشز کے خلاف ہوں یہ وہی وشز ہوتی ہیں جو فیس بُک زبردستی دلواتا ہے۔
میں اپنے آپ کو اک بہتریں تحفہ دینا چاھتی تھی تو میں محترم احسن صاحب سے اُن کی کتب کے لئیے رابطہ کیا ، انہوں نے نہایت شائستہ انداز میں مجھے اپنی کتب تحفے میں دینا چاھی۔۔میں اُن کی شدید مشکور ہوں۔۔
میری سالگرہ سے ایک دن پہلے مطلب کے ارجنٹ نوٹس پر مجھے چار کتب موصول ہو گئی وہ بھی اسلام آباد سے میرپورخاص سندھ۔۔  
ایک نیا لکھاری جو کہ ابھی سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہے وہ اپنے معلم کی کتب پر تجزیہ و تبصرہ کرنے کی جسارت کیسے کر سکتا ہے۔۔معلم بھی کیا معلم ایک مکمل مصنف جن کے ماسٹر پیس کتب دھوم مچا رہی ہوں۔۔
••••
آجکل کے ٹیکنولجی کے دور میں جہاں انسان کو سر کھُجانے کی بھی فُرست نہیں، وقت اس قدرتیز بھاگ رہا ہے کہ پتہ تک نہیں چلتا کہ کب شب گزری اور کب دن گزرا۔۔
پھر بھی کچھ وقت نکال کر ہم اپنے لئیے بہتریں انٹرٹینٹمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہوں، جہان موبائیل فون میں ہی ہر کوئی ہر وقت مگن رہتا ہے خاص کر کے اگر وہ نوجواں ہو تو ، کیا وہ دن رات لگا کر کسے کتاب میں مست ہوسکتا ہے؟ ؟؟
ہاں جی بلکل ہوسکتا ہے اگر محترم محمد احسن صاحب کی کتب ہوں تو اپنے آپ کو روکنا بے حد مشکل ہے جب تک کتاب مکمل نہیں ہوجاتی۔۔
میرے نزدیک مسافر شب کی کتب بلکل پرنگلز چپس کی طرح ہے ، کھاتے جاؤ کھاتے جاؤ جب تک ڈبہ ختم نہیں ہو جاتا،یہ ایک خطرناک چسکا ہے ، اگر لگ گیا تو بس ہی سمجھیں۔۔ لیکن یہ ایسا ذائقہ ہے جو ملتا رہتا ہی۔۔
ایک مرتبہ اگر کتاب شروع کر لی تو پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ جب تلک کتاب مکمل نہیں ہوتی۔۔ اس کو بیچ میں چھوڑنا شدید مشکل ہے ۔۔
••••
ھمارے  گھر میں کتابوں کی لائبریری تو نہیں تھی پر میری امی جان کا ایک بڑا سا بُک شیلف ہوتا تھا، جو اس وقت بھی موجود ہے، وہ بولتی رہتی تھی کہ کتابیں بہتریں دوست ہوتی ہیں، کبھی پڑھ لیا کرو پر مجال ہے جو کبھی کسی کتاب کو ھاتھ لگایا ہو سوائے سیلیبرس کی، پر وہ تو مجبوری ہوتی تھی اور اُنہیں کھول کر بڑی مزے کی نیند آتی تھی۔۔
اب یہ حال ہے کہ میرے کمرے میں ہر جگہ کتابیں ملیں گی اور کچھ خاص کتب میری تکیے کے پاس بھی ملیں گی۔۔
صبح سویر میں دیوسائی کے مطعالے میں مگن تھی کہ اماں کمرے میں آئی اور حیران ہو کر بولنے لگی کی بیٹا کبھی اتنی چاھت سے قرآن ہی پڑھ لیا کرو۔۔
••••

“انگلستاں کے سو رنگ” /کائنات”

IMG_6306
اس کتاب میں حقیقت میں سو سے زائد رنگ پائے جاتے ہیں۔۔ 
یہ وہ کتاب ہے جس نے مجھے ہر بار کتاب کو بند کر کے سوچنے پر مجبور کر دیا۔۔ 
اور کبھی گوگل پر وہ مقامات دیکھنے لگ جاتی جن کا اس میں ذکر ہے۔ میں اپنے گھر بیٹھے انگلستان کی سیر کرتی رہی۔۔
اس کتب کی وجہ سے مجھے سمجھ آیا کہ درد ایک روشنی کی طرح ہے اور اُسے محسوس کرنا ہی علم اور عشق کا سفر ہے۔۔
یہ کتاب ایک مکمل سفرِ علم و عشق ہے، اور عشق کی باتیں عاشقوں کے علاوہ کون بھتر سمجھ سکتا ہے۔۔
ایسےپڑھتےہوئے میں کبھی ھنسی تو کبھی روئی۔ آپ اپنے ساتھ پڑھنے والے کو اپنے سفر میں اتنا مگن کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی الگ کائنات میں گم ہوجاتا ہے۔۔
IMG_6309
بارش برسنے کے بعد مٹی کی بھینی خوشبو، گرم گرم کافی کی خوشبو، یا پھر ٹریک کرتے وقت پائن کے درختون سے آتی مدھوش کرنے والی خوشبو ، یا پھر نئے کتاب کے پنوں کی خوشبو، اس نے تو اس قدر پیچھا کیا کہ میں آپ کی کتاب پڑھتے پڑھتے رُک جاتی فقط یہ خوشبو محسوس کرنے کے لئے۔۔۔ 

کائنات خوشبو سے سمجھ آتی ہے ” (اقتباس)

سادہ سے الفاظ میں یہ کتاب ایک قیمتی کونور ھیرہ ہے جو میرے ھاتھ لگ گیا ہے۔۔
••••

” دیوسائی میں اک رات”

IMG_6308
کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم۔ مصنف کو آسمان کے ستاروں سے لے کر سمندر کی گہرائوں تک کا علم ہے اور اندازِ بیاں اس قدر خوبصورت جو آپ کو اک سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔۔۔
اگر صرف بات کریں شیر دریا سندھو دریا کی تو اس قدر جامع اور قابلِ ستائیش تعریف اور معلومات فراھم کی ہے کہ مجھے پڑھتے شرمندگی محسوس ہوتی رہی ہے کہ میں سندھ میں رھتے ہوئی بھی سندھو دریا کہ حوالے سے اتنا نہیں جانتی جتنا  خوبصورتی سے مصنف نے بیاں کیا ہے۔
اگر بات کریں پاکستان کے خوبصورت شہروں کی تو اُن کے حوالے سے ہر جدید و قدیم دلچسپ معلومات اس کتاب میں موجود ہے، جہاں میں کچھ شہروں کو بہت فضول سمجھتی تھی تو یہ کتاب آپ کی سوچ بدل سکتی۔۔
اگر بات کریں پہاڑوں کی 
تو محبوب ( ننگا پربت) کو اس خوبصورتی اور عشق سے بیاں کیا گیا ہے کہ اُس سے محبت رکھنے والا مزید اُس کے عشق میں غوطہ زن ہوگا۔۔
اور اگر بات کریں دیوسائی کی تو 
پھر میں کیوں بتاؤں ؟؟؟؟؟
کتب خریدیں اور جا کر پڑھئیے۔۔۔
دیوسائی کو سمجھنے کے لئیے دیوسائی میں اک رات ضروری ہے۔۔
کہنے کو تو میرے پاس بہت کچھ ہے پر کچھ باتیں چُھپی ہوئی زیادہ بھتر لگتی ہیں۔
چلیں آپ کے لئیے دیوسائی میں ایک رات سے ایک اقتباس پیش ہے۔

” ہر سو موجود بیابان کوہستان میں زرخیز دیوسائی کا پہلا منظر دیکھنا ہی یقین کرنا ہے۔ یہ منظر کیفیات کی اس حد کے پار کا تھا جس کو بیاں کرنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی عاشق سے کہہ دیا جائے کہ اپنا محبوب بیاں کرے۔ مجھے دیوسائی کلام کرتا محسوس ہوا۔۔۔اور میں سمجھ گیا کہ خاموشی کی زبان کیا ہوتی ہے جس کی لغت سازوں کو خبر نہیں۔

اس سے قبل میں نے جس سے بھی دیوسائی کی بات کی  یا راہنمائی چاہی، اُسے دیوسائی کا مداح نہیں ، عاشق پایا۔ اُس کی باتوں میں شاعرانہ یا مجذوبانہ رنگ پایا۔۔ کسی کی سچائی کا انداز اس کی عالمانہ گفتگو سے نہیں ۔۔ مجذوبانہ جنون سے ہوا کرتا ہے ۔ جس پر بیتتا ہے، اس کا خبر دینے کا رنگ نرالا ہوتا ہے۔۔

دیوسائی محض دیوسائی نہیں۔۔۔۔”

( دیوسائی میں ایک رات سے اقتباس)

••••

“دانہ دانہ دانائی”

IMG_6300
اس کتب کے نام سے کافی کچھ پتہ چل رہا ہے، ویسے کہا تو یہ جاتا ہے کہ کسی کتاب کو اس کے کور سے جج نہیں کرنا چاھئیے۔ پر اگر آپ اس کتاب کو اس کے نام سے جج کر لیں تو دھوکا نہیں ہوگا۔۔۔
یہ کتاب  سمندر کی گہرایوں سے نکلے ہوئے پرلز کے اُن خوبصورت موتی یا دانوں کی طرح ہے جو دانے بڑی مھارت سے اس کتاب پر سجائے گئے ہیں۔ 
جس کا ہر دانہ اپنی الگ ساخت رکھنے کی وجہ سے منفرد ہے اور کشش رکھتا ہے۔۔
اس کتاب میں چند خوبصورت علم و حلم کی باتیں ہیں جو کامیابی کی کُنجی ہیں اگر سمجھ آئیں تو۔۔
“اک بات”

” ( سمجھنے والی بات۔۔۔ سمجھ میں تو آجاتی ہے مگر لازمی نہیں کہ دل میں بھی اتر جائے۔۔ ۔۔ دل کی بات۔۔۔ دل میں اترجاتی ہے مگر لازمی نہیں کہ سمجھ میں بھی آجائے۔) “

(دانہ دانہ دانائی سے اقتباس)
••••
اگر آپ میری طرح زندہ دل انسان ہیں اور بورنگ کام آپ کو پسند نہیں تو محترم محمد احسن صاحب کی کتب ملاحظہ کجئیے۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ آپ بور نہیں ہونگے اور جب تک کتاب مکمل نہ کر لیں سکون سے نہیں بھیٹھیں گے۔۔ اس قدر لمبی تحریر کو پڑھنے کا شکریہ۔۔ اُمید کرتی ہوں آپ بور بلکل نہیں ہوئے ہونگے۔۔
••••
“ختم شد”

“کتاب ہو یا زندگی ۔۔۔۔” ختم شُد ” 

تو نا گزیر ہے۔۔۔

مگر کتاب ہو یا زندگی۔۔۔۔ اِک نئے نقط نظر سے اِک نیا آغاز ہوتا ہے۔”

( دانہ دانہ دانائی سے اقتباس)

IMG_6305