اردو سیکشن

وہ لڑکی اکیلی گھومتی ہے

پتہ ہے وہ لڑکی اکیلی گھومتی ہے ۔۔ سولو ٹریول کرتی ہے۔۔۔

ہمارے طرح نہیں ہے جو دوستوں کے گروپ کے ساتھ جاتی ہوئے بھی ھزار مرتبہ سوچے۔۔۔

کیا بات کرتے ہو بھائی ؟؟ سولو ؟؟ یہ سب ایک ڈرامہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی شوشا چھوڑا ہوتا ہے کہ اکیلا سفر کرتی ہے پر کرتا کوئی نہیں۔۔یہ سب ایک ڈھونگ اور ڈرامہ ہوتا ہے۔ وہاں جا کر ان کو پولیس سیکورٹی بھی مل جاتی ہے اور کیا پتہ گھر سے ہی کوئی ایک دو بندے ساتھ ہوتے ہیں پر وہ ظاھر نہیں ہوتے، سمجھا کر۔۔۔ اور دل پر مت لے۔۔ ہم بھی جائیں گے جب تم سولو بول دینا لوگ مان جائیں گے۔۔۔

••••

چلیں جی یہ ہے وہ گفتگو جو ہمارے کچھ منفی سوچ رکھنے والے احباب کرتے ہیں یا پھر وہ جو جل گئے ہوں۔۔ حسد ایک بیماری ہے اور اس کا شکار اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔ اور معذرت  کے ساتھ اس بیماری کا شکار زیادہ تر عورتیں ہیں۔۔۔

آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ایک لڑکی کا سولو سفر کیا ہوتا ہے؟؟؟

•••

یہ سفر شروع ہوتا ہے ماما جانی اور بابا کی منت سماجت کرنے سے ، جن کو شروع میں تو یہی بتایا جاتا ہے کہ گروپ کے ساتھ جارہی ہوں۔ سندہ کے ایک چھوٹے سے کنزرویٹو سوسائیٹی سی اکیلے نکلنا ہی اُس کی سب سے بڑی بھادری ہوتی ہے ۔۔

گھر سے ایک قدم نکالنے کے بعد ہی وہ میل ڈومینیٹنگ معاشرے میں ایک بہن یا بیٹی کی نظر سے نہیں بلکہ ایک عورت کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔۔  لوکل بس اڈے پر پہنچ کر ہر قسم کے مرد کے نظریں اور اُن کے جاہلانہ روئیے برداشت وہ اکیلی کرتی ہے، بس کی چھت پر وہ اکیلی ہی اپنا ھیوی رک سک اور کیمپنگ کا سارا ساماں خود رکھواتی ہے، کیونکہ وہ عورت کی نظر سے دیکھی جا رہی ہوتی ہے، بہن ، بیٹی کی نظر سے نہیں۔۔۔

وہ  چوبیس گھنٹوں سے زائد کا سفر اکیلا گزارتی ہے پھر اُنیس گھنٹے کا سفر وہ ایسی بس میں کرتی ہے جس میں فقط مقامی لوگ بیٹھے ہوں۔۔ جنہوں نے نیٹکو میں سفر کیا ہے وہ خوب اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔

ساتھ میں سفر کرنے والے لوگوں کے عجیب سوالات کا بھی سامنا کرتی ہے، جیسا کہ اس بار حیدرآباد سے اسلام آباد سفر کرتے وقت ایک عورت پوچھنے لگی کہ کہاں جا رہی ہو؟ دوسرا سوال تھا اکیلی جا رہی ہو؟ میں نے کہا ہاں۔۔ اور کیا آپ بھی اکیلی جا رہی ہیں؟؟ کہنے لگی نہیں نہیں، میرا بیٹا ہے نہ ساتھ۔۔ میں نے پوچھا کہاں ہے نظر نہیں آرہا ؟؟ کہنے لگی یہ ساتھ والی سیٹ پر سو رہا ہے۔۔ دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ تو چھ ماہ کا چھوٹا بچہ ہے۔۔۔ حیف ہے سوچ پر ۔۔۔ مطلب زیرو سائز مرد ساتھ ہو تو بھی چلے گا۔۔ 

عقل سے کام لیں اور سوچیں کہ تحفظ دینے والی ذات فقط رب کی ہے ۔۔۔

•••

وہ راستے کی سختیاں اکیلے برداشت کرتی ہے ، بس ڈرائیور اور کنڈیکٹروں سے  اکیلے سامنا کرتی ہے۔ بشام میں رات ہوتی ہے تو وہ اپنی بس سے اُتر کر سڑک کے کونے پر بیٹھ کر وہ وقت بھی اکیلا گزارتی ہے۔۔ کبھی کبھی یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ لڑکی مقامی نہیں ہے اور اکیلا سفر کر رہی ہے۔۔ وہ مصیبت ایک الگ ہوتی ہے۔۔۔

پولیس چوکیوں پر پولیس والوں کے سوال جواب کو وہ اکیلا نمٹتی ہے۔ پولیس والے بھی ایسے جو ایکس رے والی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پھر سوال ایسے کہ بولتے ہیں بی بی اب ہمارے پاس کوئی فیمل اھلکار بھی نہیں جو آپ کی چیکنگ لے کیا پتہ آگے جاکر آپ پھٹ پڑیں۔۔ 

کیوں بھائی کبھی کسی مرد کے ساتھ بیٹھی عورت کی طرف تو نہیں دیکھا اور نہ ایسے سولات کئیے ۔۔۔ خیر 

ایک نئی جگہ جہاں کے لوگوں کے بارے میں اُسے کچھ پتہ نہیں وہاں بغیر کچھ سوچے بس محبوب(ننگاپربت) کی محبت میں نکل پڑتی ہے۔۔ وہ وہاں اکیلی ہوتی ہے وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ۔۔

اُس کے جیسا وہاں کوئی نہیں ہوتا ، نہ زبان ایک ہوتی ہے نہ رہن سہن ۔۔۔ 

الله رب العزت  کی طرف سی ایک مدد شامل ہوتی ہے اور جی بی پولیس سیکورٹی زبددستی بیس کیمپ ساتھ چلنے کا بولتے ہیں۔۔

ایک ٹریکر جس نے کبھی بیس کیمپ کا ٹریک نہیں دیکھا تو وہ گائیڈ لازمی ساتھ لے گا۔ لیکن گائیڈ اُس کا رشتے دار نہیں ہے، وہ وہاں کا مقامی ہے۔۔ وہ مرد ہے۔۔ وہ بھی اُس کو ایک اکیلی عورت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔۔ وہاں کے سب مقامی لوگ اس ہی نظر سے دیکھتے ہیں کہ اکیلی لڑکی آئی ہے۔۔۔

وہ الگ بات ہے کہ میں جہاں گئی تو وہ پاکستان کا پُر سکون ، کم کرائم ریٹ والا خطہ ہے۔۔

وہاں کے لوگوں نے مجھے اتنی محبت دی کہ اپنی سگی بہن بیٹی سمجھا۔۔ یہ اُن کا پیار تھا۔۔  

یہاں پر سر مستنصر حسین تارڑ صاحب کی کتاب ” ننگا پربت” سے ایک اقتباس شئیر کرنا چاھتی ہوں۔۔۔

“پہلے آپ اجنبی ہوتے ہیں یونہی گزرنے والے پھر آپ اس مقام کے باسی ہوجاتے ہیں۔۔ اور وہاں کے باسی بھی آپ کو قبول کر لیتے ہیں۔۔”

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں وہاں ایک اجنبی ہوتی ہوں، اور کچھ وقت کے بعد میں وہاں کی باسی ، وہاں کی مقامی بن جاتی ہوں۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ کمال وہاں کے محبت کرنے والے مقامی لوگوں کا ہوتا ہے۔۔۔۔

•••

اکیلے جھانگردی کرنے کی خواری میں نے اپنی خوشی سی اُٹھائی ہے اور اس کا لطف وہ ہی جان سکتا ہے جس نے اس کو آزمایا ہے۔ ۔۔۔

ناتجربہ کار زور آزمائی نہ کریں ۔۔۔

میرے آنے والے ارٹیکلز میں میرے نارتھ کی سولو ایکسپیڈیشن میں درپیش آنے والے حالات اور میری محبوب ( نانگا پربت ) سے ملاقات بیان ہوگی۔۔ انشاالله

فیری میڈوز کا سفرنامہ بھی جلد پوسٹ کروں گی۔۔۔شکریہ۔۔