Solo Travel,  اردو سیکشن

۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ آخری قسط

ہوٹل پہنچتے کچھ دیر آرام کیا اور فریش ہوکر باھر گئی سوچا کچھ کھا لوں گی اور نتھیا گلی کو تھوڑا ایکسپلور کر لیتی ہوں،
وہاں بازار میں دو ہوٹل ہے ، دونوں کے نام ایک جیسے ہیں بس رنگ کا اور ہوٹل کے اندر کی لائیٹنگ کا تھوڑا فرق ہے، ایک سرخ ہے تو ایک سبز، میں سرخ رنگ والی ہوٹل میں گئی ۔ کیونکہ سرخ میرا پسندیدہ رنگ ہے ۔وہاں جاکر فرائیڈ رائس اور منچوریں کھایا۔ بہت بھوک لگی ہوئی تھی شاید اس لئے اتنا لذیذ لگا۔۔اُس کا تیز اور کھٹا میٹھا ذائقہ اب بھی میں محسوس کر سکتی ہوں۔ میرے زندگی کا سب سے لذیذ چائینیز کھانا تھا۔۔
ویسے تو چائینیز کھانا پھیکا ہوتا ہے پر پاکستانی چائینیز کا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے۔۔

وہاں سے نکلتے ایوبیا چیئر لفٹ کی سیر کو نکل گئی۔
چئیر لفٹ والی جگہ پر پہنچ کر اُس میں سوار ہونے کے لئے تھوڑا پیدل چلنا پڑتا ہے ، وہاں لوگوں کا ھجوم تھا، کافی لوگ فیملیز کو ساتھ لائے تھے، وہاں کافی مختلف دکانیں بھی تھی جس پر ھینڈی کرافٹ کی چیزیں، کھلونے ، اور گرم کپڑے دستیاب تھے۔۔
اور ہر دو قدم چلنے کے بعد پھس پھس والی مشین لگی تھی جہاں سے لذیذ کافی، چائے اور گلابی چائے میرا مطلب ہے کشمیری چائے ملتی تھی۔ میں نے بھی کشمیری چائے کے مزے لئے۔۔

ٹکٹ لینے کے بعد چئیر لفٹ میں سوار ہونے کے لئے کافی وقت لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ آخرکار میری باری آگئی۔ چئیر لفٹ والی جگہ پر خود کھڑے ہوجائے وہ لفٹ آپ کو خود لفٹ کر لیتی ہے، بس میں بھی سوار ہوگئی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا چھوٹا ھیلی کاپٹر ہے جو میں چلا رہی ہوں، آھستہ آھستہ اُونچائی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اور ایک جگہ بجلی گم ہوگئی اور لفٹ رُک گئی۔۔ اور میں بیچ راھ میں ٹنگی ہوئی تھی ۔ہر طرف شدید دھند تھی اور بڑے بڑے درخت تھے۔۔
سرِ راہ بیچ میں لٹک کر ، ہوا میں معلق ہو کرُ زندگی بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
جہان دل میں اندر سے مطمئن تھی کہ جو چاھتی تھی وہ حاصل کر لیا وہاں ہی اب میں مکمل تبدیل ہوچکی تھی ، میں اب وہ مِسا نہ تھی جو ڈری ہوئی اکیلی گھر سے نکلی تھی، اور ہر چھوٹی بات پر پریشان ہوجاتی تھی۔
میرا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل چکا تھا۔
زندگی ہمیں پھولوں سے سجا راستہ دکھا کر پتھروں اور کانٹوں بھرے راستے پر چلاتی ہے اور ھم کیونکہ اُس سے ناآشنا ہوتے ہیں تو پل پل تکلیف برداشت کرتے ہیں اور آخر سیکھ جاتے ہیں۔
“سب سے بہتریں سبق وہ ہوتا ہے جو ہم خود چوٹ کھا کر حاصل کرتے ہیں، کتابوں اور مشاہدوں سے انسان سیکھتا ضرور ہے مگر جو بات خود تکلیف سہہ کر سمجھ میں آتی ہے وہ کوئی دوسرا نہیں سمجھا سکتا۔۔۔” ( نامعلوم)

زندگی کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہوجائے ، مایوس نہیں ہونا چاھئے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ ہم خالقِ حقیقی کا اُس وقت تو شکر ادا کرتے ہیں جب زندگی میں سب اچھا چل رہا ہو ، پر اُس وقت شکوہ شروع کردیتے ہیں جب حالات ہمارے خلاف ہوجائیں۔
جب وہ پرندہ جس کا طوفانی بارش میں گھونسلہ تباہ ہوجاتا ہے ، صبح ہوتے ہی کوئی شکوہ کرنے کے بجائے الله کی حمدوثنا میں مصروف ہوجاتا ہے ، تو ہم اشرف المخلوقات ہو کر کیا اُس کے شکر ادا نہیں کرسکتے ؟؟؟
کہ شاید اس میں بھتری ہو، ہمیں اپنے آس پاس مثبت پہلو دیکھنا چاھئیے تکہ زندگی سہل ہوجائے۔۔۔

جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں یہ مردوں کا بنایا معاشرہ ہے۔ یہاں دو طرح کی عورتیں ہیں، ایک وہ جو ساری زندگی غلام بن کر جوتیاں پالش کرتے اور کھاتے گزار دیتی ہیں۔ کمپرومائز کے نام پر گھر بساتے مر جاتی ہیں اور دوسری وہ جو اپنا آحتصال ہوتے کبھی برداشت نہیں کرتی اور اپنے حق کے لئے آواز بُلند کرتی ہیں۔۔۔
بھینس اور عورت میں کچھ تو فرق ہوتا ہوگا، ایک ھی لاٹھی سے تو ھانکا نہیں جا سکتا ، لیکن ہانکا جاتا ہے۔
مرد کو خدا نے حاکمیت کا عنصر بخشا ہے اور میزانِ عدل بھی عنایت کی پر اس مرد ذات نے عورت کے سارے حقوق صلب کر لئے۔۔۔۔
میرا شمار اُن عورتوں میں نہیں ہوتا جو سوچتی ہیں عورت ، مرد کے شانہ بشانہ ہیں۔۔۔۔
میں سوچتی ہوں کہ عورت صنفِ نازک ہے اور مرد اُس کا حاکم۔۔ یہ مرد کا کام ہے کہ جہاں عورت کی حق تلفی ہو جہاں اُس کا آحتصال ہو وہاں اُس کا حامی و ناصر بنے، پر اگر وہ حق غضب کرنے والا بن جائے تو عورت کو خاموش نہیں رہنا چاھئیے۔۔۔

نتھیا گلی گھوم کر واپسے راولپنڈی کی لئے روانہ ہوئی ، جس ہوٹل میں اپنے گھر سے فون پر بُکنگ کروائی تھی انہوں نے کمرے کا آج کے دن کا وعدہ کیا تھا ، اُن کو کال کر کے کنفرم کیا اور سیدھا ہوٹل پہنچی۔
وہاں دو دن آرام کیا اور اسلام آباد، راولپنڈی کو ایکسپلور کیا۔۔۔۔
ہم چیزوں کو ایک منفی نظریے سے دیکھتے ہیں، یہ وہ ہی سوچ ہوتی ہے جو بچپن سے ہمارے دماغ میں فیڈ ہوتی ہے۔ ہمیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ ہم خود ایکسپلور کر کے پھر اُس بات کی تصدیق کریں۔
جس طرح ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اکیلی لڑکی سفر نہیں کر سکتی۔
یہاں ضرورت ہے تو ہماری مثبت سوچ کی۔۔ ہمارا ملک پاکستان بے حد خوبصورت اور محفوظ ہے۔
اِس ملک کی بیٹی بہادر ہے اور باآسانی اکیلے گھوم سکتی ہے۔۔۔

مثبت سوچ کے ساتھ اِس سفر کا آختتام یہیں تک۔۔۔۔

(((((۔ ۔ختم شد۔ ۔ )))))