Baltistan,  اردو سیکشن

چقچن مسجد

“خپلو کا نور”

کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن کو آپ نے صرف تصاویر میں دیکھا ہوتا ہے۔ اور وہ کوئی ایک تصویر ہوتی ہے جیسے دیکھتے ہی آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ آپ کا اس جگہ سے کوئی کینکشن ہے۔ آپ کو یہاں جانا چاھئیے۔۔۔
چقچن مسجد کی بھی ایک تصویر میری نظر سے گزری تھی جس کو دیکھتے ہی محسوس ہونے لگا کہ مجھے یہاں جانا ہے۔۔۔
مجھے اس مسجد کو دیکھنے کی بہت شدت سے تڑپ تھی ، جیسے کہ ایران کی گلابی مسجد دیکھنے کی ہے، میرا مطلب ہے “ پنک موسق”۔۔۔جس کو مسجد نصیر الملک بھی کہتے ہیں۔۔
یا پھر وادی کمراٹ کی جامع مسجد تھل جو کہ لکڑی سے بنی ایک قدیم مسجد ہے۔۔۔ اس ہی طرح کی چند اور مساجد میری لسٹ میں شامل ہیں۔۔۔

یوسف بھائی نے گاڑی روکتے کہا کہ آگئی چقچن مسجد ۔۔۔۔

میں گاڑی سے اُتری تو اپنے دائیں ہاتھ پر مسجد کو دیکھا۔ پہلی نظر میں ہی اس مسجد کو دیکھتے کچھ روحانی وائیبز آئی، جس سے محسوس ہوا کہ تصویر دیکھ کر لگتا تھا کہ کچھ کنیکشن ہے تو وہ واقعی کچھ تھا۔۔۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے اسکردو کے ٹرپ پر کسی مقام پر ایک لڑکی اپنی دوست سے کہہ رہی تھی کہ یار میری اس جگہ ایسے تصویر بناؤ ، فلاں کی تصویر میں نے فیسبُک پر دیکھی تھی وہ بھی اسی جگہ تھی۔۔۔
اُس وقت میں یہی سوچتی رہی کہ کاش ہم اس ریسنگ گیم سے باہر نکل آئیں اور اِن مقامات پر تصاویر بنانے کے علاوہ اِن کو محسوس بھی کر سکیں ۔۔۔

میں جہاں بھی جاتی ہوں، اُس جگہ سے جڑی باتوں کو محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔۔

جب میں چقچن مسجد کی سیڑھیاں چڑ رہی تھی تو اُس وقت یہی سوچ رہی تھی کہ یہ مسجد اپنے اندر کتنی گہری ہسٹری لیے ہوئے ہے۔۔

یہ کس قدر قدیم مسجد ہے۔۔۔ تھوڑی معلومات آپ سے بھی شئیر کرتی چلوں ۔۔۔
چقچن مسجد بلتستان کے علاقے خپلو میں واقع ہے ۔۔ یہ ایک قدیم مسجد ہے جس کی بنیاد 1370ء میں رکھی گئی ۔ مسجد بننے سے پہلے یہ جگہ
بدھ مت کی خانقاہ تھی۔ پھر جب وہاں کے راجا نے اسلام قبول کیا تو خانقاہ کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ اب یہاں پر دو طرح کی روایات ملتی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی جن کا تعلق ایران سے تھا اُن کے آنےکے بعد اس علاقے میں اسلام قبول کیا گیا۔ جبکہ دوسری روایت ملتی ہے کہ کشمیرسے ایک صوفی بزرگ جن کا نام میر سید نور بخش قہستانی تھا وہ 
بلتستان تشریف لائے اور پھر یہاں خانقاہ مسجد میں تبدیل ہوئی اور لوگ اسلام کی طرف آئے۔ مسجد کے دروازے پر بھی جو نام لکھا ہے وہ ہے
“ جامع مسجد صوفیہ نور بخشیہ چقچن” ۔۔۔۔

اس مسجد کی تعمیر کشمیری طرز پر کی گئی ہے۔۔۔ جو کہ نہایت خوبصورت ہے۔۔۔

سیڑھیاں چڑھتے جب دروازے پر پہنچی تو کچھ لوگ وہاں سے باہر نکل رہے تھے۔ میرے اندر داخل ہوتے میں نے اپنے آپ کو وہاں اکیلا پایا۔۔۔
سب سے پہلے وہاں نوافل ادا کیے اور اُس کے بعد ساری مسجد کو سکون سے دیکھا۔۔ میں اس مسجد کی خوبصورتی دیکھتے دنگ رہ گئی۔۔ کس قدر محنت اور محبت سے اس کے در و دیوار بنائے گئے ہیں۔۔۔
مسجد کے کوریڈور سے پہاڑ نظر آتے ہیں ۔ اور وہاں مختلف قسم کے پرندوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، جو سکون کا باعث ہیں۔۔۔
وہاں شدید روحانی ماحول ہے جو آپ کو وہاں جاتے محسوس ہونے لگتا ہے۔۔۔ میں اس مسجد میں گھومتے کافی کچھ سوچ رہی تھی جیسے کہ
یہاں سے اب تک کتنی تعداد میں آذان دی گئی ہوگی۔۔۔
یہاں کتنی عبادت ہوئی ہوگی۔۔۔
یہاں کتنے سجدے ہوئے ہونگے۔۔۔
اس مسجد سے کتنی تعداد میں “ اللہ اکبر “ کی صدائیں بُلند ہوئی ہونگی۔۔۔
اور کتنی تعداد میں “ حی علی الفلاح” کی صدائیں بُلند ہوئی ہونگی۔۔۔
پھر اُس کے بعد کتنی زیادہ تعداد میں یہاں سے دعائیں مانگی گئی ہوںگی۔۔۔
رب سائیں اور بندے کا کنیکشن کیسے بنا ہوگا ۔۔۔
کبھی کبھی تو کسی سوال کرنے والی کی جھولی بھی بھر دی گئی ہوگی۔۔۔
ایک بات مجھے وہاں کی بہت پسند آئی کہ وہاں کافی زیادہ تعداد میں جائے نماز بچھے ہوئے تھے ۔ ۔۔۔ مطلب جب دل کرے آجاؤ۔۔۔
وہ رب سائیں اپنے بندے کا یوں ہی انتظار کرتا ہے کہ کبھی تو دنیا کے مسائل سے نکل کر آئے گا میری طرف۔۔۔
کبھی تو میرا بندہ مجھے صرف اس لیے ملنے آئے گا کہ اُسے مجھ سے محبت ہے ، نہ کہ کوئی مطلب۔۔۔۔
وہ کہتا ہے جب دل کرے آجاو۔ پھر جب اُس کے پاس جاتے ہیں تو سوال نہیں کرتا کہ کہاں تھے؟ مجھے کیوں بھول گئے؟ میری نافرمانی کیوں کی؟؟ بلکہ وہ تو گلے لگاتا ہے۔ وہ تو سہارا دیتا ہے۔ وہ تو جھولی بھر دیتا ہے۔۔۔۔

کوریڈور میں ایک دروازہ ہے جہاں سے مسجد کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ میرے وہاں اندر جاتے مجھے کسی روحانی ہستی کی موجودگی کا احساس ہونے لگا۔۔۔ وہاں ایک دیا بھی رکھا تھا جو روشن تھا۔ میں نے اُس سے تھوڑا تیل اپنے آپ سے مس کیا۔۔۔۔
یہاں اس جگہ پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کافی وقت گزارنا چاھئیے۔۔۔
پر کیونکہ میں وہاں رُک نہیں سکتی تھی تو مجھے واپسی کے لیے روانہ ہونا پڑا۔۔۔
مسجد کی سیڑھیاں اُداس دل کے ساتھ واپسی اُترتے سوچ رہی تھی کہ چقچن مسجد میں فجر کے وقت کیسا محسوس ہوتا ہوگا ۔۔۔۔

بس ایک کاش اور ایک اُمید کے ساتھ واپس آئی ہوں کہ دوبارہ وہاں جلد جانا نصیب ہوگا۔۔۔
مست الست مسا~